ہوم گارڈننگ

گھریلو باغبانی ایک ایسا شوق ہے جو ڈپریشن کا کم کرتا ، آنکھوں کو تازگی پہنچاتا ہے، خالص غذا کی فراہمی کا باعث اور جیب پر بوجھ کو کم کرتا ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کس طرح سبزیوں اور پھلوں میں کیمیکلز کی ملاوٹ انہیں زہریلا بنا رہی ہے۔ کچھ ویڈیوز میں نقلی بند گوبھی بھی بنائی جارہی ہے. یہ سب دیکھ پریشانی ہوتی ہے کہ ہم کیا کھا رہے ہیں؟



ہم ساری سبزیاں تو گھر پر نہیں اگا سکتے ہیں لیکن بہت سی کیمیکلز سے پاک سبزیاں کم خرچ اور کم جگہ میں لگائی جا سکتی ہیں۔ اس طرح گھر بیٹھے تازہ سبزی بھی مل جائے گی اور ایک بہترین مشغلہ بھی ہاتھ آجائے گا۔پودے انسان کے دوست ہیں اور آج کے ٹیکنالوجی کے دور میں لوگ نیچر سے بہت دور ہوگئے ہیں۔ ہمیں خود کو قدرتی ماحول کے نزدیک کرنا ہوگا۔ پودوں کی بہت اہمیت اور افادیت ہے اگر پھل اور سبزیاں گھر میں اگائے جائیں تو یہ بجٹ پر خوشگوار اثر ڈالتے ہیں۔ بس ہوم گارڈننگ میں کچھ ہدایات پر عمل کرکے آپ بھی اپنی پسند کی سبزی گھر میں آگا سکتے ہیں۔

کچن یا ہوم

گارڈننگ یا گھریلو باغبانی کے لیے بہت بڑی جگہ کا ہونا لازمی نہیں ہے۔ آپ سبزیاں اپنے گھر کی چھت ، کیاری ، ہینگنگ پاٹس اور فلیٹ کی گیلری میں بھی اگا سکتے ہیں۔ شروعات میں سلاد یا دھنیے پودینے سے آغاز کیا جائے۔ سب سے پہلے جگہ کا انتخاب کریں. جگہ ہوا دار ہو اور جہاں دھوپ آتی ہو۔ اس کے بعد یہ فیصلہ کریں کہ آپ کو کون سی سبزیاں آگانی ہیں۔ اگر لان یا کیاری میں سبزیاں بوئی جائیں گی تو زمین تیار کرنے کا طریقہ وہ ہی روایتی ہے۔ زمین بھی پودے لگاتے وقت ایک فٹ گہرائی نرم کر لیں اور پتھر جڑی بوٹیاں نکال لیں۔ زمین میں اچھی طرح کھاد مکس کریں۔ زمین کو پانی دیں اس کے بعد لائن کی صورت میں بیج ڈالیں۔پودوں کی اچھی نشوونما کے لیے انہیں حسب ضرورت پانی دیں۔

گرمیوں میں پودوں کو دو بار پانی دیں۔ اگر گملوں، پلاسٹک کے تھیلوں، پرانے ٹائروں ، بوتلوں، لکڑی اور پلاسٹک کے کریٹ میں سبزیاں آگانی ہیں تو طریقہ کار تھوڑا فرق ہے۔

12 فروری کے بعد مارچ تک گرمیوں کے لیے سبزیاں اگائی جاسکتی ہیں۔ جن میں بند گوبھی، بھنڈی، کریلہ، بینگن، توری، کدو، پالک، کھیرا، ٹینڈا، شملہ مرچ شامل ہیں۔

سردیوں کی سبزیوں کے لیے جولائی اگست میں تیاری شروع کر دیں. اس موسم میں آپ مولی, شلجم, گاجر, مٹر, آلو, دھنیا, پالک, گوبھی, ساگ, سلاد, بروکلی اور چقندر وغیرہ اگا سکتے ہیں. اس کے ساتھ موسمی دھنیا ہرا پودینہ ہری مرچ سلاد کے پتے روزمرہ سلاد کے لیے لگا لیے جائیں۔

پودوں کو ہوا دار اور دھوپ والی جگہ پر رکھیں۔ پودوں کے درمیان مناسب فاصلہ ہو۔ شروعات میں چھوٹے اور کم پودوں کے ساتھ کام کا آغاز کریں۔ ہر روز پودوں کو پانی دیں اور گھر کا بنا سپرے کرکے ہم خود اپنے لیے اناج اگا سکتے ہیں۔ اگر لان یا کیاری نہیں ہے تو سب سے پہلے کریٹ میں بوری یا کاٹن کا پرانا کپڑا بچھائیں۔ اس کے بعد اس میں تیار شدہ مٹی ڈالیں۔ جس میں کھیت یا نہر کی مٹی بھل ، پرانے پتے اور گوبر کی کھاد وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ اگر آپ ایسا کرنے سے قاصر ہیں تو نرسری سے تیار کھاد خرید لیں۔ نرسری سے آپ کو کھاد ملی مٹی بھی مل جاتی ہے۔ ویسے گھر میں بھی اورگینک کھاد بنانا بہت آسان ہے۔

گھر میں روزمرہ میں بچ جانے والے پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے، بچا ہوا کھانا، پرانے پتے، چائے کی استعمال شدہ پتی اور جانوروں کا فضلہ گوبر، مٹی میں دباتے جائیں دو سے تین ماہ میں بہترین کھاد تیار ہوجائے گی۔ مٹی میں صرف ایک حصہ کھاد ملائیں۔ پودوں کو کیڑوں سے بچانے کے لیے ہم کوئی زہریلے اسپرے استعمال نہیں کرتے ہم پانی میں ایک چمچ برتن دھونے کا لیکویڈ ، سرکہ اور مرچیں ملا کر پودوں پر سپرے کرتے ہیں. کوئی کیڑا بھی پودوں کے نزدیک نہیں آئے گا۔

فروری مارچ میں ہم ٹماٹر مرچ شملہ بینگن کی پینری لگا سکتے ہیں اور اروی ، کریلا، کدو، کھیرا ، ادرک، پودینہ، پیاز، آلو، مولی، توری ،شکر قندی ، کھیرا کے بیج کو ڈائریکٹ اگانا ہے۔

گھریلو باغبانی یا کچن گارڈننگ کی بہت افادیت ہے کیونکہ بازار میں ملنے والی سبزیاں گندے پانی اور کیمیکل کی وجہ سے آلودہ ہوجاتی ہیں۔ ان پر جو کیڑے مار اسپرے ہوتا ہے اس کی وجہ سے کینسر بہت بڑھ رہا ہے۔ اس وجہ سے لوگ اب خود گھریلو باغبانی کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ ہم سارا سال تو سبزیاں نہیں اگا سکتے ہیں لیکن بہت سی سبزیاں اور سلاد گھر پر آسانی سے اگا سکتے ہیں۔اگر گھر میں لان نہ بھی ہو تب بھی ہم سبزیاں اگا سکتے ہیں سبزیاں ، سلاد کیاری ،گملوں پاٹس، ٹائیر، گھڑے مٹی اور لکڑی یا پلاسٹک کے برتن اور کریٹس میں بھی لگائے جا سکتے ہیں۔

سردی کی سبزیاں تو باآسانی لگ جاتی ہیں لیکن گرمیوں کی سبزیوں کے لیے خاص احتیاط کرنا ہوتی ہے۔ کیونکہ گرمی میں کیڑوں کے حملے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ گھریلو باغبانی کے لیے سب سے پہلے نرسری سے گلے سڑے پتوں کی کھاد لیں وہ لاکر گملے کیاریوں یا لان میں ڈالیں۔ کھاد آپ گھر میں بنا سکتے ہیں ایک گڑھے میں پھل سبزیوں کا کچرا بھرتے رہیں اس میں ذرا سی یوریا کھاد اور پانی ڈال کر ا کو تین ماہ کے لیے بند کردیں تو گھر پر کھاد تیار ہوجائے گی۔

گرمیوں کی اکثر سبزیاں زیادہ تر بیل کی صورت میں بڑھتی ہیں ان کو لگانا بہت آسان ہے۔ پاٹس میں اگائیں اور بیل دیوار پر چڑھادیں۔ گرمیوں میں کریلا، کدو آسانی سے اگائے جاسکتے ہیں۔ گرمی کی سبزیوں کو پانی کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے. پانی کا خاص دھیان کریں۔ کیڑوں سے بچانے کے لیے اسپرے بوتل میں پانی لیں اس میں ایک چمچ سرف اور ایک چمچ کوکنگ آئل ملا کر مکس کرلیں اور پودوں پر چھڑکاؤ کریں اس سے پودے کیڑوں سے محفوظ رہیں گے۔

نیم اور مورنگا کے پتے برابر لے کر ہری مرچ, تمباکو, سرخ مرچوں کو سرف اور لہسن والے پانی میں مکس کرکے بھی سپرے تیار کیا جاتا ہے جو کہ پودوں کو کیڑوں سے بچاتا ہے۔جڑی بوٹیوں کو بھی صاف کریں۔ شروع میں پودینہ اور دھنیا لگائیں. گرمی میں ان کی کٹنگ کرتے رہیں انہیں گرین نیٹ کے نیچے رکھیں۔ پودنیہ کی بھی کٹینگ کرتے رہیں یہ سارا سال آپ کو ملتا رہے گا۔

لیموں اور ٹماٹر اگائیں۔ آج کل اسٹابری بھی کچن گارڈننگ میں بہت اِن ہورہی ہے اگر اس کی نرسری اکتوبر نومبر میں لگا لی جائے تو گھر میں دو ماہ زبردست اسٹابری ملے گی۔انجیر کا پودا لگائیں اج کل ایک چھوٹا پودا ملتا ہے گرمیوں میں تین سے چار ماہ آپ کو پھل ملے گا۔ فروری میں ٹماٹر پودینہ انجیر گھیا توری کریلے کھیرے ضرور لگائیں اور راہنمائی اور معلومات کے لیے کسی ماہر سے رابطہ میں رہیں