بَنّہ

بَنّہ پنجابی / سرائیکی اور ان سے ملتی جلتی زُبانوں میں کھیتوں کے درمیان سے گزرنے والی پگڈنڈی یا راہداری کو کہتے ہیں۔ بَنّہ ایک زرعی ثقافت کی علامت ہے جو دو کھیتوں کو تقسیم بھی کرتا ھے اور کسانوں کے درمیان ایک مروّت اور عداوت سے مِلاجُلا ایک سماجی تعلق بھی وضع کرتا ھے خاص طور پر جب دو کسانوں کی زمینوں کا ” بَنّہ سانجھا” ہو۔ یعنی ایک مشترکہ پگڈنڈی دو کھیتوں کی ملکیت کے درمیان حد ہو۔ جن کسانوں کے بَنّے سانجھے ہوتے ہیں وہ مختلف مواقع پہ بَنّہ سا نجھا ہونے کا بھرم رکھتے ہوے ایک دوسرے کی چھوٹی موٹی خطاؤں کو جہاں نظر انداز کردیتے ہیں تو دوسری جانب سانجھا بَنّہ ہونے کی وجہ سے ایک مستقل عداوت یا پنجابی میں جسے شَرِیکا (مخالفت) کہا جاتا ہے وہ بھی پوری زمہ داری سے نبھاتے ہیں۔



بّنّہ بطورِ رہگزر سب گاؤں والوں کا ہوتا ہے اور یہ گاؤں کو “پَکّی” ( پَکی سڑک) سے بھی ملاتا ہے اگرچہ گاؤں کی ایک ذیلی کچی سڑک بھی گاؤں کو پَکّی سے ملاتی ہے لیکن بّنّہ ایک مختصر راستہ ہے جو ڈیرے سے ہوتا ہوا پکی سڑک کو جاتا ہے۔ بَنّہ کسی بھی گاؤں کے باسیوں کیلئے بہت اہم ھے کہ وہ اس بَنّے پہ چلتے ہوے اپنے کھیتوں اور کھلیانوں کو بھی جاتے ہیں اور اسی بَنّے پہ چلتے ہوے وہ بچپن سے جوانی اور پھر بڑھاپے کا سفر بھی طے کرتے ہیں ۔

بنے پہ سردیوں کا کُہرہ بھی جمتا ہے اور چاندنی راتوں میں چاند بھی چمکتا ہے۔ بَنّے کے ساتھ لگی بیری اور اس پر پھیلی آکاس بیل،ٹاہلییاں اور ان پہ دوڑتی گلہریاں،ان پہ بسنے والے پرندے، کہیں دور ایک دو کھجور کے درخت اور ان سے منسوب کچھ داستانیں، پانی کا “کھال” ( کھیت سیراب کرنے والا نالا) اور ان کھالوں کے سیمنٹ کے بنے ہوے ڈھکن اور ان ڈھکن پہ کالے رنگ کے کچھ گنتی اور انگریزی حروف جو کسی کو معلوم نہیں کیا لکھا ہے اور ان کھالوں میں “کیی” (کَسّی) تھامے کسان اور دُور کے کھیتوں میں سے گزرتے ہوے بجلی کے بڑے کھمبوں کی ٹرانسمشن لاین وغیرہ یہ سب مناظر صرف بَنّے سے ہی نظر آتے ہیں ۔اور ہاں اس بَنّے کے ساتھ پڑا ہوا ایک سَستے سے غیر معروف کمپنی کا جُوس کا ڈبہ اور ایمبیسی، کے ٹو اور گولڈ فلیک جیسے سستے سگریٹ کی ڈبیاں اور نِمکو کے پُرانے پیکٹ سالوں سال بَنِے کے ساتھ پڑے رہتے ہیں اور تھوڑا بہت گُھوم پھر کر دوبارہ اسی بَنّے کی ساتھ آ کے لیٹ جاتے ہیں جیسے یہ ان کا دوست ہو۔ پتہ نہیں یہ آپس میں کیا باتیں کرتے ہوں گے ؟

بَنّے سے منسوب ایک بہت اہم کردار “دودھی” (گوالا) کا ہے جو اپنی پُرانی میلے سے کالے رنگ کی سائیکل جس کے مڈگاررڈز اُترے ہوتے ہیں اس کے کیرئیر کے دائیں بائیں جَست کے ڈرم لٹکائے اور ایک مخصوص قسم کا ہارن وقفے وقفے سے بجاتا ہوا ڈیرے پہ موجود کسان کو اپنی آمد کی اطلاع صبح وشام دیتا ہے تاکہ وہ ڈیرے پہ وقت ضائع کئے بغیر دودھ اکٹھا کرکے اپنے مستقل گاہکوں کے گھروں میں بروقت پہنچائے۔دودھی کی سائیکل بھی عجیب ہے جس کو روکنے کیلئے وہ اپنا پاؤں جس میں اس نے پرانے ٹائرز کی جوتی پہنی ہوتی ھے پہییے پہ رکھتا ہے اور سائیکل ہلکی پُھلکی سی “چِھسِسِس” کی مزاحمتی آواز نکال کے رُک جاتی ہے اور دودھی “گَھڑم” سےڈَرم کا ڈھکن کھول کے ڈیرے سے دودھ وصول کرتا ہے اور دوبارہ سائیکل بَنّے پہ ڈال دیتا ہے۔

دودھی کے علاوہ اجنبیوں میں سے گاے بھینس کے بیوپاری اور جانوروں کے ڈاکٹر وغیرہ بھی بَنّے پہ مہینے میں ایک دفعہ نظر آ ہی جاتے ہیں جن کی منزل بھی ڈیرہ ہی ہوتی ھے جبکہ صبح شام بنّے پر سے گزرنے والوں میں گاؤں کی خواتین اور بچے بھی نظر آتے ہیں اور خاتون جب گزر رہی ہو تو مرد احتراماً بنے سے اتر کر دور ہو جاتے ہیں اور اگر کوئی اپنے گھر کی خواتین کے ساتھ چل رہا ہو تو ساتھ پیدل چلنے والے مرد کو سلام کرنا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے سواے رشتہ داروں کے۔

بَنّے پہ عموماً اسی گاؤں یا چَک کے لوگ ہی آتے جاتے ہیں یا کسی قریبی گاؤں کے لوگ۔ سردیوں میں تو بَنّے کی شان ہی نرالی ہوتی ہے دائیں بائیں سرسوں کے پیلے پھول یا سبز گندم یا کماد یا کہیں سبزیاں یا مالٹے کے باغ وغیرہ۔ بَنّے کی پہچان اسکے کناروں پہ لگی گھاس بھی ہے اور درمیان میں پیدل چلنے والوں کے قدموں کی وجہ سے سفوف کی طرح باریک پِسی ہوئی مٹی والی زمین بھی، جس کی سطح گزشتہ بارش کے کیچڑ میں چلنے والے انسانوں، جانوروں اور دوددھی کے سائیکل کے پہیوں کے نشانات کی وجہ سے اکثر جگہوں پہ غیر متوازن ہو چکی ہوتی ہے اور پیدل چلنے والے جہاں ٹھوکر سے محتاط ہو کر بَنّے پہ چلتے ہیں تو وہیں سامنے سے یا پیچھے سے آتی ہوئی سائیکل کی گھنٹی کی “ٹَرِن ٹَرِن” سنتے ہی بَنّے سے نیچے اُتر جاتے ہیں اور سائیکل گزرنے کے بعد دوبارہ بَنّے پہ چلتے ہوے زندگی کی یکسانیت بحال کر دیتے ہیں۔