’اہم مضمون‘ کا انتخاب کیسے کیا جائے؟

تعلیم کے میدان میں شعبہ یا اہم مضمون منتخب کرنا نہ صرف لازمی ہوتا ہے بلکہ یہ ایک پیچیدہ عمل بھی ہے۔ اہم مضمون کو ہم عام اصطلاح میں ’میجر‘ کہتے ہیں اور اس کا انتخاب کافی سوچ سمجھ کر کرنا ہوتا ہے۔ تاہم اس سے پہلے یہ فیصلہ کرنا ضرور ی ہے کہ آپ کو کس کالج میں داخلہ لینا چاہئے؟ کون سے کیریئر کا انتخاب کرنا چاہئے؟ تاکہ بعد میں اپنےمنتخب کردہ میجر کی وجہ سے آپ اچھی زندگی گزارسکیں اور غلط فیصلے کے پچھتاوے سے دور رہیں۔



اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے مطابق ،’’ میجر وہ میدان ِ مطالعہ ہوتاہے ،جس میں آپ اختصاص کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ کا انتخاب دراصل اس علمی شعبے کا تعین کرتاہے ، جس کیلئے آپ کو کافی وقت دینا ہوگا اور اپنی توانائیاں صرف کرنی ہوں گی۔ میجر اور تعلیمی ادارے کے تقاضوں کو کامیابی سے مکمل کرنے پر آپ کو بیچلر ڈگری تفویض کی جاتی ہے، یعنی میجر کا انتخاب آپ کا کلی طور پر ذاتی معاملہ ہوتاہے ‘‘۔

جب کوئی طالبعلم کسی اہم مضمون یعنی میجر کا انتخاب کرتاہے تو وہ عہد کرتا ہے کہ وہ تعلیمی ادارے اور علم حاصل کرنے کے حوالے سے عمومی تقاضوں (یعنی ادارے کی لاگو شرائط) اور اس میجر مضمون کے نصاب کی تکمیل کرے گا۔ اہم مضمون یا میجر کا انتخاب کرنا اور اسے مکمل کرنا اتنا مشکل نہیں، جتنا یہ لگتا ہے۔ میجر کے انتخاب کے سلسلے میںہم آ پ کو کچھ مشورے دے سکتے ہیں۔

بعض طلبا کسی خاص مضمون میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں، اس لیے ان کو میجر کے انتخاب میں پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتاجبکہ کچھ اپنے نصب العین کے پیش نظر کسی خاص مضمون کا انتخاب کرتے ہیں جیسے کہ تدریس، انجینئرنگ، نرسنگ وغیرہ۔ آج کے طلبا اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہیں کہ انہیں اپنے میجر یا کیریئر کے حوالے سے انٹرنیٹ کی خدمات دستیاب ہیں اور وہ سیکنڈوں میں اپنی مطلوبہ معلومات حاصل کرلیتے ہیں۔

طلبا کے ذہن میں ہلکا سا خاکہ تو ہوتاہی ہے لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کونسا شعبہ ان کے نصب العین کے حصول میں مدد گار ثابت ہوگا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ صرف ایک میجر کے انتخاب سے ہی کسی مخصوص کیریئر تک رسائی کاخیال کافی نہیں ہوتا بلکہ اس کی ابتدا اسکول کی سطح پر ہی ہو جانی چاہئے کہ کس کیریئر کیلئے کونسا میجر منتخب کرنا ہوتا ہے۔

دراصل کیریئرکے انتخاب اور میجر کے انتخاب میں بہت فرق ہوتاہے ۔ اس سلسلے میں طلبا اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ وہ کرنا کیا چاہتے ہیں اور ان کی صلاحیت اور استعداد کتنی ہے، یعنی آپ سائنس پڑھنا تو چاہتے ہیں لیکن آپ کوسائنس سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے، ایسے میں آپ کا فیصلہ غلط ثابت ہوسکتاہے۔

ایک سروے کے مطابق امریکا میں 75فی صد سے زائد طلبا کم سے کم ایک بار میجر کے مضامین میں تبدیلی ضرور کرتے ہیں۔ یہ اندازہ بھی لگایا گیا ہے کہ طلبا اپنے کالج کیریئر کے دوران میجر کے انتخاب میںزیادہ سے زیادہ تین بار تک تبدیلیاں کرتے ہیں ۔

اگر آپ کواس بات کا یقین نہیں ہے کہ آپ کا منتخب کردہ مضمون آپ کو ساری زندگی پریشان تو نہیں کرے گا؟تو سب سےپہلے اپنے آپ سے دو سوالات پوچھیں: آپ کا شوق کیا ہے؟ اور آپ کو کس چیزسے تحریک ملتی ہے؟

آپ کے والدین، دوست احبا ب اور اساتذہ، آپ کے لئے اچھا سوچتے ہیں لیکن اس معاملے کا تعلق آپ کی زندگی اور آپ کے کیریئر سے ہے۔ اس لئے ایسا میجر منتخب کریں، جس میں آپ کو دلچسپی ہو۔ اس سلسلے میں اپنے تعلیمی کائونسلرز سے ملاقات میں دیر نہ کریں۔ ان لوگوں نے ان تمام برسوں کے دوران بے شمارطلبا کے ساتھ کام کیا ہوتا ہے، اس لئے وہ آپ کو اہم معلومات اور چیزوںکو بہتر طور پر سمجھنے کے مواقع فراہم کرسکتے ہیں تاکہ آپ کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔

ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ میجر کے لئے زیرِغور مضامین کی فہرست بنا لیں۔ہر مضمون پر پوری شدت کے ساتھ تحقیق کریں۔ معلومات حاصل کرنے کے لئے تعلیمی اداروں کی ویب سائٹس دیکھنا شروع کریں۔ خاص کر اس بات پر توجہ دیں کہ نصاب کے لئے کیا کیا ضروری ہے۔ کیاانٹرن شپ یا لیب کا تجربہ ضروری ہے ؟ اگر ہاں تو یہ چیزیں آپ کوکیسی لگتی ہیں؟ جواب دیتے وقت پوری دیانتداری سے کام لیں۔

اگر آپ نے کالج میں دو سال گزار لیے ہیں تو پہلے دوبرسوں کے دوران عام تعلیم کی ضرورتوں کا فائدہ اٹھائیں ۔آرٹس اور سائنس کے کورسز کا سیمپل بنا ئیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ پیشہ ورانہ پروگرام جیسے کہ بزنس، لااور میڈیسن آپ کو مل جا ئیں ۔

آپ ان لوگوں سے بھی رائے لے سکتے ہیں جو ان تمام مراحل سے گزر چکے ہیں اور ایک اچھا فیصلہ کرکے اپنے راستے پر کامیابی سے گامزن ہیں۔ ان کے تجربات سےفائدہ اٹھائیں اور اگر کوئی پیشہ ورانہ زندگی میں کامیاب ہے تو اس کی روزگار حاصل کرنے کی تاریخ اور مدت پر نظر ڈالیں تاکہ آپ کو پتہ چل سکے کہ جس مضمون کے انتخاب کے بارے میں آپ غور کر رہے ہیں اس مضمون کے ساتھ روزگار ملنے کے امکانات کیا ہیں۔

ضروری نہیں کہ ہم صرف کیریئر کیلئے ہی اہم مضمون کا انتخاب کریں بلکہ اس مضمون میں ہم روز مرہ زندگی کیلئے بھی سیکھتے ہیں- اپنی صلاحیتوں کا ادراک کرنے کے لئے ہم اس کا استعمال کرسکتے ہیں۔فرض کریں آپ نے اسلامک ہسٹری کا مضمون منتخب کیا ہے تو آپ کی دینی اصلاح ہو سکتی ہے یا آپ فلسفے کے طالبعلم ہیں تو دنیا کو نئے فسلفے سے روشناس کرواسکتے ہیں، دوسروں کو نئی راہیں دکھا سکتے ہیں یا دنیا دیکھنے کا نیا نظریہ پیش کرسکتے ہیں، دراصل ایک اچھی ، وسیع تعلیم زندگی بھر کا اثاثہ ہوتی ہے، یہ صرف مختلف پیشوں یا آمدنی کے دروازے کھولنے کی کلید نہیں ہے ، بلکہ ایک معاشرتی وسیلہ ہے ، جس سے آپ کو بہت سارے لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کا سلیقہ ملتاہے۔

دنیا خود تعلیم یافتہ شخص کیلئےایک دلچسپ جگہ ہے ، اور وہ اپنی تعلیم سے دنیا کو زیادہ دلچسپ اور رہنے کے قابل بنانے میں مدد کرسکتاہے ۔ تعلیم ہمارے دنیا کو دیکھنے کے نظریے کو بدل دیتی ہے، ہمیں چیزوں کو مختلف طرح سے دیکھنے کے زاویے دیتی ہے،اور سکھاتی ہے کہ آپ اس علم کےسمندر سے کیا کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔